Thursday, April 3, 2025

دو راتوں کی یادگارشب بیداری، فتح الباری کا مطالعہ اور ایک دوست کا رقعہ

 الحمدللّٰہ ویسے تو سارا زمانۂ طالبعلمی، تمام مدارس جہاں تعلیم حاصل اور تمام اساتذہ ٔ کرام سے تلمذ ہی میرے لئے سعادت  اور فخر کا باعث ہے، مگر جامعہ دارالعلوم کراچی میں گزرے شب وروز اور خاص کردورۂ حدیث کے اساتذہ کرام میری سعادتوں کی انتہا اور اللہ تعالیٰ کی بندہ پرکی جانے والی نعمتوں کی تکمیل تھیں۔ دورۂ حدیث شریف میں حضرت صدر جامعہ مفتی ٔ اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع صاحب عثمانی قدس اللّٰہ سرہ، حضرت نائب صدر صاحب مفتی محمد تقی صاحب عثمانی  دام ظلہم، حضرت مفتی محمود اشرف صاحب عثمانی رحمۃ اللہ علیہ  ، حضرت مولانا عزیزالرحمان صاحب مدظلہم، حضرت مولاناافتخار احمداعظمی صاحب نوراللہ مرقدہم، حضرت مفتی عبدالرؤف سکھروی صاحب، حضرت مولانا عبداللہ  برمی صاحب، حضرت مولانا اسحاق صاحب، حضرت مولانا راحت علی ہاشمی صاحب  زید مجدہم و طال عمرہم اور حضرت مولانا رشید اشرف صاحب طاب ثراہم سے تلمذ بطور خاص سامانِ فخر وافتخارو عزت وشرف ہے۔

ان میں بھی خاص الخاص طور پر حضرت شیخ الاسلام صاحب کے اسباق میں حاضری اور حضرت سے اپنی الجھنوں کے تسلی بخش جوابات حاصل کرنا، خاص کرجب کہ حضرت کے رعب کی وجہ سے عمومی طور پر ساتھی طلباء سال میں بمشکل ایک دو سوال ہی حضرت سے پوچھ پاتے تھے بندہ الحمد للہ تقریبا ہر روز ہی حضرت سے فیضیاب ہوتا تھا۔  اس کے علاوہ اپنے حصے کی عبارت زبانی سنانا، نیز دیگریادگاروں میں سے حضرت کے امرکردہ ادعیہ اور احادیث کلاس میں سنانا مجھے ساری زندگی کے لئے ایک ایسا اعتماد دے گیاکہ اب کسی اور صاحب کمال ، ذوالعلم والجلال کارعب طاری نہیں ہوتا۔ 

ان یادگار ساعتوں میں سے دو راتوں کی میری محنت کی گواہی دیتی دو تحریریں جن کے رسوم وطلائل اب  کسی عرب شاعر کی محبوبہ کی یادگاروں کی طرح مٹنے لگ گئے تھے اور انہیں میرے چھوٹے شرارتی بچونگڑوں  کے ہاتھوں سےمنہدم ہونے کا بھی خطرہ اجاگر ہوچکاتھا۔  محفوظ کرنے کے لئے ان کی تصویر کو اپ لوڈکررہاہوں اور ان کی تحریر کو کمپوز کررہا ہوں تاکہ ان سے  ہمیشہ حوصلہ حاصل کرسکوں۔ اگرچہ ان دو راتوں کے بعد  اب تک کئی راتیں تحقیق کرتے ہوئے جاگتے گزاری ہیں مگر ان راتوں پر جوخوشی اور فخر ہے وہ ساری زندگی رہے گا۔ ان شاء اللہ

منگل ۲۴ ذوالحجہ  ۱۴۲۹ ھجری

بروزمنگل ۲۴ ذوالحجہ  ۱۴۲۹ ھجری کو حضرت شیخ الاسلام صاحب مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ علینا نے حدیث نمبر ۳۷۸ کے ذیل میں ارشاد فرمایا کہ یہاں پر حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے حافظ ابن حجر  رحمۃ اللہ علیہ کا تخطیہ فرمایا ہے کہ حافظ صاحب نے جحوش ِساق اور ایلاء کے واقعے کو ایک قرار دیا ہے جبکہ درحقیقت میں  یہ دونوں واقعات الگ الگ ہیں۔ 

میں سبق کے اہم مقامات کو فتح الباری سے دیکھا کرتا تھا۔ اس رات بھی میں نے حافظ رحمۃ اللہ علیہ کے ان دونوں واقعات کوایک کہنے کی جگہ تلاش کرنا شروع کی۔ رات کا بڑا حصہ جاگنے کے بعد بھی میں حافظ صاحب کے ان دونوں واقعات کو ایک کہنے کی جگہ تلاش نہ کرپایا۔ میں نے اپنی جستجو استاد محترم کے سامنے پیش کرنے کی ٹھانی اور ان تمام گیارہ مقامات کا حوالہ لکھ کر بدھ ۲۵ ذو الحجہ ۱۴۲۹ ھجری کو حضرت کے سامنے کتاب میں  یہ رقعہ رکھ دیا۔ 

حاصلِ مطالعہ پر مشتمل سوالیہ خط 

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

جناب استاد محترم(ادام اللّٰہ ظلہ علینا)

السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ

  عرض ہیکہ کل بروز منگل ۲۴ ذی الحجہ کو ہم نے بخاری شریف کی حدیث نمبر ۳۷۸ کے ذیل میں ہم نے پڑھاکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللّٰہ   سے یہاں تسامح ہوا ہے اور انہوں نے دو واقعوں کو ایک ذکر کیا ہے۔ میں نے اس سلسلہ میں فتح الباری کو دیکھا تو تومعلوم ہوا کہ امام بخاری رحمہ اللّٰہ علیہ نے اس حدیث کے اطراف کو ۱۱ جگہ ذکر ہے جنکو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اِن اِن جگہوں پر ذکر کیا ہے۔ 

نمبر۱۔ حدیث نمبر۳۷۸ ،فتح الباری ص۶۴۲۔ج ۱

نمبر۲۔ حدیث نمبر۶۸۹ ،فتح الباری ص۳۳۱۔ج ۲

نمبر۳۔ حدیث نمبر۷۳۲ ،فتح الباری ص۲۷۵۔ج ۲

نمبر۴۔ حدیث نمبر۷۳۳ ،فتح الباری ص۳۷۵۔ج ۲

نمبر۵۔ حدیث نمبر۸۰۵ ،فتح الباری ص۳۷۰۔ج ۲

نمبر۶۔ حدیث نمبر۱۱۱۴ ،فتح الباری ص۷۴۳۔ج ۲

نمبر۷۔  حدیث نمبر۱۹۱۱ ،فتح الباری ص۱۵۰۔ج ۴

نمبر۸۔حدیث نمبر۲۴۶۹ ،فتح الباری ص۱۴۶۔ج ۵

نمبر۹۔ حدیث نمبر۵۲۰۱ ،فتح الباری ص۳۷۴۔ج ۹

نمبر۱۰۔ حدیث نمبر۵۲۸۹ ،فتح الباری ص۵۳۱۔ج ۹

نمبر۱۱۔ حدیث نمبر۶۶۸۴ ،فتح الباری ص۶۹۶۔ج ۱۱

انمیں سے پہلی سات جگہوں پر جحوش ساق والے واقعے کا تذکرہ ہے ایلاء کا بالکل تذکرہ نہیں۔

جبکہ آٹھویں جگہ میں دونوں واقعات کا کچھ کچھ تذکرہ ہے۔ مگر ایسا کوئی لفظ نہیں جس سے دونوں قصوں کا ایک ہونا معلوم ہو۔ 

اسکے بعد نمبر ۹ اور نمبر۱۰ میں ایلاء کاذکر ہے جحوش ِ ساق کا تذکرہ نہیں ، سوائے ایک عبارت کے جوابھی لکھتا ہوں۔

جحوش  کے تذکرہ میں حافظ نے حدیث نمبر ۶۸۹ کے ذیل میں ص ۲۲۶ پر ذکر فرمایا ہے کہ یہ پانچویں ہجری کا واقعہ ہے۔

حافظ رحمۃ اللہ علیہ کی کسی عبار ت سے میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ حافظ صاحب دونوں واقعات کے ایک ہونے کے قائل ہیں۔

وہ عبارت جس سے کچھ شبہ لگتا ہے وہ حدیث نمبر ۵۲۸۹  کے ذیل میں حافظ رحمۃ اللہ علیہ کی یہ عبارت ہے۔

  «فتح الباري لابن حجر» (9/ 427): «وَقَدْ تَقَدَّمَ بَيَانُ قَوْلِهِ آلَى مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا وَشَرْحُهُ فِي أَوَاخِرِ الْكَلَامِ عَلَى شَرْحِ حَدِيثِ عُمَرَ فِي الْمُتَظَاهِرَتَيْنِ فِي النِّكَاحِ وَوَقَعَ فِي حَدِيثِ أَنَسٍ هَذَا فِي أَوَائِلِ الصَّلَاةِ زِيَادَةُ قِصَّةٍ مَشْهُورَةٍ سُقُوطُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْفَرَسِ وَصَلَاتُهُ بِأَصْحَابِهِ جَالِسًا»۔

لیکن بظاہر اس میں بھی کوئی تصریح نہیں ہے۔ البتہ اگر یہ کہاجائے تو ہوسکتا ہے کہ حافظ رحمۃ اللہ علیہ نے چونکہ دونوں کے الگ الگ واقعہ ہونے کی صراحت نہیں فرمائی اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حافظ دونوں واقعوں کوایک سمجھتے تھے۔

اس تسامح کو واضح فرماکر مشکور فرمادیں، کہ شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کس طرح یہ بات حافظ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب فرماتے ہیں۔ 

نواز ش ہوگی ۔ جزاکم اللہ خیرا۔

سائل نوراکرم








بدھ ۲۵ ذو الحجہ ۱۴۲۹ ھجری

حضرت استاد محترم نے اس پرچے کو پڑھنے کے بعد تلاش کرنے کی کوشش کرنے پر حوصلہ افزائی فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ حضرت شاہ صاحب نے اگر یہ ارشاد فرمایا ہے کہ حافظ رحمۃ اللہ علیہ نے دونوں واقعات کو ایک قرار دیا ہے تو یقینا ً یہ بات کہیں نہ کہیں حافظ صاحب نے ضرور کہی ہوگی۔ میں  کل کو بتاؤں گا۔
میں نے سوچا کہ حضرت استاد صاحب  تو ضرور تلاش فرماہی لیں گے میں بھی دوبارہ کوشش کروں۔ بدھ کی رات میں نے اس واقعے کے بیان پر تمام احادیث کی لسٹ بنا کرتلاش شروع کی تو بالآخر حافظ صاحب کا دونوں واقعات کو ایک کہنا مجھے مل گیا جسے میں نے ذیل کی چٹ میں تحریر کردیا۔

اگلے دن کی چٹ کی عبارت

حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی بات کے  مطابق جب میں نے حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث انس رضی اللہ عنہ سے ملتے جلتے مضامین والی روایات پر حافظ رحمہ اللہ  کاکلام دیکھا تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث نمبر ۵۲۰۲  کے ذیل میں وہ عبارت ملی جس میں حافظ رحمۃ اللہ علیہ نے اس واقعہ ایلاء کے وقت حضور ﷺ کے پاؤں مبارک کے زخمی ہونے کا ذکر کیا ہےوہ عبارت یہ ہے
«فتح الباري لابن حجر» (9/ 301): «لَكِنِ اتَّفَقَ أَنَّهُ فِي تِلْكَ الْحَالَةِ ‌انْفَكَّتْ ‌رِجْلُهُ ‌كَمَا ‌فِي ‌حَدِيثِ ‌أَنَسٍ الْمُتَقَدِّمِ فِي أَوَائِلِ الصِّيَامِ»
اس سے حافظ کے دونوں واقعات کے ایک ہونے کے قائل ہونے کا علم ہوتا ہے۔
طالبعلم : نوراکرم 


جمعرات ۲۶ ذوالحجہ ۱۴۲۹ ھجری  کا درس

 میں نے درج بالا چٹ  حضرت کی کتاب میں رکھ دی۔ حضرت  کلاس میں تشریف لائے تو حمد وثنا  کے بعد حضرت نے میرے سوال کی تحسین فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ واقعی حافظ صاحب نے یہ بات حدیث الباب کے ذیل میں ارشاد نہیں فرمائی مگر ایک دوسری جگہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے ذیل میں  یہ بات ارشاد فرمائی ہے ۔ پھر مجھے مخاطب کرکے ارشاد فرمایا کہ سمجھ میں آگئی بات۔ تو میں نے عرض کیا جی استاد محترم مجھے بھی کل یہ بات مل گئی تھی اور میں نے یہ چٹ آپ کی کتاب میں رکھی ہے۔ حضرت استاد صاحب نے یہ چٹ دیکھ کر بندہ کی بہت زیادہ حوصلہ افزائی فرمائی۔ جس نے مجھے سرشار 
کردیا۔ 

میرے سوالات پر ایک ہمجماعت کا غصے   سے بھرا خط

میں چونکہ پہلی صف میں دس نمبر سیٹ پر بالکل حضرت کے سامنے بیٹھتا تھا۔ حضرت ہی کے کسی سبق کے دوران پیچھے سے ایک چٹ میرے کسی دوست نے مجھے بھیجی جو میں نے آج تک سنبھال کررکھی ہے۔ جس میں بظاہر تو وہ مجھ سےطنز بھرے انداز میں  خفا ہورہے ہیں اور میرے سوالات پر ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں۔ مگر اس پرچی نے مجھے زندگی کے ہر موقعہ پر بہت حوصلہ دیا۔  حتیٰ کہ جب میں کسی کام کے دوران تھک یا اکتا جاؤں  تو میں یہ چٹ پڑھتا ہوں "کوفی نوراکرم" کا لقب دیکھتا ہوں توبہت محظوظ ہوتا ہوں اور یہ تحریر مجھے دوبارہ تازہ دم کردیتی ہے۔ مجھے آج تک اس دوست کا علم نہیں ہے ، نہ ہی مجھے ان سے کوئی ناراضگی ہے۔نہ ہی میں جاننا چاہتا ہوں کہ  وہ کون تھا۔ اس کے برعکس میں اس دوست کا بے حد شکر گزار ہوں۔ آج ۱۶ سال گزرنے کے بعد بھی میں نہیں چاہتا کہ وہ پشیمانی کااظہار کریں ۔ میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ میں  ان کا تہہ دل سے مشکور تھا، مشکور ہوں  اور مشکور  رہوں گا۔میں نے ہمیشہ ان تحریروں سے حوصلہ حاصل کیاہے۔  اس پرچی کی عبارت درج ِ ذیل ہے:۔
 😂علامہ نوراکرم صاحب
ہم تمام ساتھیوں کو معلوم ہے کہ آپ دور حاضر کے مفکر مدبر ہیں 😅لیکن ہم تمام ساتھی آپ سے مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ آپ اپنی فکروتدبر کو اپنی حدتک محدود رکھیں😄 چونکہ ہم نے تسلیم کرلیا ہے کہ آپ زمانے  کے شیخ الاسلام ہے اسلئے آپ کو مزید  تشہیر کی چنداں ضرورت نہیں😡۔ چنانچہ اگر آپکو پھر بھی عادت کی مجبوری کی بنا پر سوال و اعتراض کرنا ہے تو اللہ کے واسطے آپ متعلقہ استاذ سے فرصت میں بحث ومباحثہ و مناظرہ کریں ہمیں آپکے مناظرہ کا نظارہ کی چنداں ضرورت نہیں😈 ۔ چونکہ آپ کو معلوم ہے کہ بڑی مشکل سے رات دن ایک کرکے ہم اختتام کو پہنچ رہے ہیں لیکن آپ ہر آئے دن اس محنت کو ناکام بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ 👳بہرحال اب اپنا سوال واعتراض بندکریں۔ 

کوفی نوراکرم کو ملے

😁😂😄😅😀😝





Saturday, June 19, 2021

پہلا چلہ ، گوجرانوالہ اور لاہور2004

 

اگلی کچھ قسطوں میں اپنی سال کی کارگزاری لکھوں گا۔مجھے تبلیغی سال کے دوران تقریبا ۲۰ ممالک کے لوگوں کے ساتھ عربی ، انگلش اور فارسی زبانوں کی ترجمان کے طور پر خدمت کا موقع ملا۔ فللہ الحمد۔ یہ ٹیپیکل تبلیغی قسم کی کارگذاری نہیں ہے ، بلکہ پاکستانی اور  غیرملکی مہمانوں کے ساتھ گزرے ہوئے دلچسپ واقعات ہیں جو میرے لئے زندگی بھر کے لئے  خوبصورت یادیں بن گئے۔سال کی کہانی شروع کرنے سے پہلے میں ۲۰۱۱ سے پہلے کے اپنے مختلف تبلیغی جماعت سے متعلقہ  واقعات کو بھی بطور یادداشت تحریر کرنا چاہوں گا۔

پہلا چلہ : پہلی تشکیل گوجرانولہ ، قلعہ دیدار سنگھ،۲۰۰۴

میں پہلی دفعہ چالیس دن کی جماعت میں غالباً ۲۰۰۴ میں گیا تھا ۔ یہ تشکیل مدرسہ جامعہ باب الرحمت گلشن حدید کی طرف سے تھی۔ ۔ اس زمانے میں فراڈی قسم کے لوگوں کے تبلیغی بن کر فراڈکرنے کے بہت سے  واقعات ہورہے تھے ۔ مرکز رائیونڈ میں مخصوص تعداد میں طلباء کوایک  جماعت میں جانے کی اجازت ہوتی تھی باقی ساتھی عمومی حلقے کے ساتھ ملانے ہوتے تھے ۔ ہم چار پانچ طلباء ایک جماعت میں تھےاس جماعت کا امیر ہمارے ایک طالبعلم ساتھی بھائی سعید کو بنایا گیا، جو کہ مجھ سے پچھلی کلاس  میں  تھے۔اس جماعت میں ایک نابینا ہمارے ساتھ تھا۔ پہلے تو ہم خدمت کے جذبے سے اس کے ساتھ ہونے پر خوش تھے مگر کسی پہرے دار نے امیر صاحب کوبتایا کہ یہ نابینا شخص مشکوک ہے اور ہم اس کی نگر انی کررہے ہیں۔ آپ اسے جماعت میں ساتھ نہ لیکر جائیں ۔جماعت بننے کے بعد ایک دن مرکز میں ہدایات سننی ہوتی تھیں اور پھر مصافحے کے بعد روانگی ہوتی تھی ۔امیر صاحب نے اس نابینا سے جان چھڑانے کے لئے اسے بیٹھنے کی جگہ نہ بتائی  ، تاکہ آرام سے ہم اسے الگ کرسکیں۔ اس وقت رائیونڈ میں پرانا مرکز ہوتا تھارش کی وجہ سے بینا آدمی کے لئے بھی کسی کو تلاش کرنا آسان نہ ہوتا تھا مگر وہ نابینا  حیرت انگیز طور پر جہاں ہم پہنچتے، پہنچ جاتا ، اور قریب پہنچ کر لاٹھی ہلا ہلا کر سعید بھائی ! سعیدبھائی! آوازیں دینا شروع کردیتا ۔ اور ہمارے ساتھ آکر بیٹھ جاتا۔واضح الفاظ میں اسے منع امیر صاحب بھی نہیں کرپارہے تھے۔بالآخر ان سے نجات کے لئے یہ جماعت توڑنا پڑی اور ہمیں الگ الگ جماعت میں جانا پڑا۔

نئی جماعت میں ہمارے امیر صاحب ڈگری کے بھائی عبدالجبار واپڈا والے تھے اور مولوی  ضیاء صاحب ڈگری والےاور دو دورہ کے طلباء بھی ہمارے ساتھ تھے ۔ہماری پہلی تشکیل گوجرانوالہ کے قریب قلعہ دیدار سنگھ کے مضافاتی دیہاتوں میں ہوئی۔ یہاں پر ہم نے بہت سی عجیب باتیں دیکھیں۔

ایک گاؤں میں ہم گئے تو اس میں صرف ایک تبلیغی ساتھی تھے وہ بزرگ عمر کے تھے اور قادری سلسلہ سے بیعت تھے۔ گاؤں کے لوگ انہیں وہابی کہتے تھے تبلیغ جماعت کو ناپسند کرتے تھے مگر ان کے معاملات کے وہ سب گرویدہ تھے۔ گاؤں والوں کا کہنا تھا کہ ان کے معاملات بہت عمدہ ہیں ۔ حتی  کہ اپنی پانی کی باری ختم ہونے پر اگر چہ اگلابندہ نہ بھی آیا ہو خود ہی اپنا پانی بند کرکے اگلے کے کھیت میں پانی چلادیتے ہیں۔

اس علاقے کے دوران جو جہالتیں ہم نے دیکھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ وہ سورہ لہب کوجماعت میں بلندآواز میں پڑھنے والے امام کی پٹائی کرتے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حضورﷺ کے چچا کی ہجو کر کے آپ ﷺ کا دل دکھا رہاہے۔

وہاں ایک صاحب نے تقریر کی اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی مال ِ غیمت کی حفاظت کے دوران شیطان کو پکڑے والی حدیث بیان کی اور اس میں شیطان کی ہیئت کذائی  یوں بیان کی کہ ایک بوڑھا آیا جس نے سرپر بستر اُٹھایا تھا ہاتھ میں لوٹا پکڑا تھا دوسرے ہاتھ میں تسبیح تھی والعیاذ باللہ  حضور ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبلیغی جماعت کا امیر ہے ۔ آج  چلا گیا اور چودہ سو سال بعد دوبارہ آئے گا۔ آگیا کہ نہیں؟ استغفراللہ والعیاذ باللہ

اسی علاقے کے ایک اور گاؤں کی  مسجد میں گئے جمعہ کا دن تھا جو صاحب تقریر کررہے تھے قرآن کی آیت پڑھ کر اپنی مرضی کے انتہائی غلط جملے ایسی روانی سے بول رہے تھے گویا کہ ترجمہ بتارہے ہوں ۔مشتے از خروارے کے مصداق ان کی قابلیت یہ تھی کہ"افان مات" کا ترجمہ " حضور دی امت وی بڑی سوہنی " کررہے تھے،تبلیغ اور  تبلیغیوں  پر شدید تنقید کررہے تھے۔ کہ اچانک کہنے لگے " لوکو تبلیغاں کریا کرو ، جماعتاں چ جایا کرو" ہم شدید حیرت کا شکار ہوئے کہ اچانک پوری ۱۶۰ ڈگری کیسے تبدیل ہوگئے۔وہ بعد میں معلوم ہوا کہ پنڈ کے ۳ عدد چوہدری تبلیغ کے مخالف تھے جو کہ پہلے سے مسجد میں موجود تھے۔ وڈا چوہدری جو کہ جٹ برادری سے تعلق رکھتے تھے  وہ تبلیغ سے متاثر ہوچکے ہیں ، تو ان کے مسجد میں داخل ہونے سے مولوی صاحب کا انداز بلکل بدل گیا۔

اس تشکیل کے دوران الحمدللہ مولانا سرفراز خان صفد ر صاحب کی زیارت کی سعادت حاصل ہوئی۔ حضرت صاحب ِ فراش تھے ،دورے کے طلباء جو ہمارے ساتھی تھے کو انہوں نے اجازت حدیث دی ۔

اسی تشکیل کے دوران ایک مسجد اہلحدیث حضرات کی ایسی دیکھی جس کے امام صاحب تصوف سے تعلق رکھتے تھے ، غالبا ً ان کا تعلق غرباء اہلحدیث سے تھا جس میں امیر جماعت کی بیعت کی جاتی ہے ۔

اسی تشکیل میں ہمارے ساتھی بھائی رضوان کامونکی والے اور ایک اور ہمارے ساتھی ہماری نصرت کے لئے گوجرانوالہ مرکز میں آئے ۔ اور ساتھ کیلے کی درجنیں لائے۔

دوسری تشکیل : لاہور ، تیونس کے عرب  کے ساتھ

اس تشکیل سے واپسی پر میں نے عرب مہمانوں کے ساتھ تشکیل کروانے کی ٹھان لی، ستم یہ کہ مدارس کے طلباء کو مہمانوں کے ساتھ نہیں بھیجاجاتا تھا ، تو میں نے اپنا تعارف اسکول کے طالبعلم کے طور پر کرواکر تشکیل والی جگہ چلے گئے ، ہمیں جس جماعت میں جوڑا گیا اس میں صرف امیر صاحب عربی تھے باقی سارے پاکستانی تھےوہ غالبا تیونس کے تھے اور پیشے کے لحاظ سے سماک  یعنی مچھیرے تھےیہ ان کی چار مہینے کی آخری تشکیل تھی ۔ان کے کچھ جذباتی عربی جملے آج بھی مجھے یاد ہیں۔ہماری تشکیل لاہور کی دومسجدوں میں ہوئی ،دونوں جگہ ہی جماعت کے لئے  کچھ رکاوٹ تھی، پہلی جگہ میں مسجد کے ساتھ مزار تھا ، اور اس میں تحریری طور پر بھی لکھ کر لگایا ہوا تھا کہ تبلیغی جماعت کو بیان کرنے کی اجازت نہیں ہے اور عصر کی نماز سے پہلے ایک صاحب نے ہمیں مسجد انتظامیہ کا باقاعدہ پیغام دیا کہ آپ لوگوں کو یہاں بیان کرنے کی اجازت نہیں ہے۔مقامی ساتھیوں نے بتایاکہ صاحب ِ مزارمرحوم پیر صاحب اس مسجد میں جماعت کوآنے دیتے تھےاور اپنے مریدوں کو جماعت والوں کی بات سننے کا کہتے تھے مگر ان کی وفات کے بعد بیٹوں کو کسی نے یہ سمجھایا کہ اگر جماعت والے آتے رہے تو آپ اپنے والد صاحب کے مزار پر عرس نہیں کرواسکیں گے۔ جس کی وجہ سے انہوں نے جماعت کی آمدپر پابندی لگادی۔

مسجد میں داخل ہوتے ہی الٹے ہاتھ پر مزار تھا ۔ مہمان امیرصاحب کافی جذباتی تھے جب ان کو انتظامیہ کا پیغام بتایا گیا کہ انہوں نے مسجد میں کام کرنے سے منع کردیا ہے تو وہ قیام کی ترغیب دینے لگے۔ کہنے لگے " ماذا سیفعلون بنا، ھل یشتموننا  ، فالانبیاء شُتِموا، اویتفلون علینا فالانبیاء تُفلت علیھم، او یلطموننا ، فالانبیاء لطموا،او یضربوننا فالانبیاء  ضُرِبوا، او یقتلوننا فالانبیاء قتلوا۔یعنی وہ کیا کریں گے ،کیا ہمیں گالیاں دیں تو انبیاء بھی اس سے محفوظ نہیں رہے، یا ہم پر تھوکیں گے تو انبیا ء کے ساتھ یہ گستاخی کی گئی یا ہمیں تھپڑ ماریں گے تو انبیاء بھی اس سے محفوظ نہ رہے یاکیا ہمیں ماریں گے تو انبیاء کے ساتھ یہ ظلم ہوا، یا ہمیں شہید کریں گے تو انبیاء کو شہید کیا گیا۔ "پھر انہیں بتایا گیا کہ یہاں مقامی ساتھی اس پابندی کے ختم ہونے کے لئے کوشش کررہے ہیں اور تبلیغی کام کے لئے ایک ساتھی نے اپنی بیٹھک مہیا کی ہوئی ہے ہم نماز پڑھ کرتبلیغی اعمال ان کی بیٹھک میں کرلیں گے۔ اگر ہم یہاں ٹھہرے رہے تو محنت کا نقصان ہوگا تو وہ مقامی ساتھیوں کی رائے پر امادہ ہوئے۔

دوسری مسجد کسی کالج کی تھی جہاں ہمیں صرف اتوار والے دن ٹھہرنے کی اجازت مل سکی پھر باقی دودن ایک اور مسجد میں لگائے۔ عربی امیر صاحب کا ایک جملہ میں آج بھی استعمال کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ جب ان سے پوچھا جاتا کہ رات کا کھانا عشاء سے پہلے کھانا ہے یا عشاء کے بعد تو وہ کھانا عشاء سے پہلے کھانے کا کہتے اور استدلال میں یہ جملہ کہتے :" العَشاء قبل العِشاء وبعد العِشاء العائشہ"۔ ایک دفعہ وہ کپڑے دھورہے تھے نَل سے پانی آنا بند ہوگیا باقی سب لوگ اُٹھ گئے وہ وہیں کپڑے نَل کے نیچے کئے بیٹھے رہے اور یہ کہتے رہے"الماء یاتی من خزائن اللہ ، اللہ یاتی بناالماء"، یہانتک کہ نَل میں سے دوبارہ پانی آنے لگ گیا۔

شادی



میں نے اپنی زندگی کے کچھ دلچسپ موضوعات پر لکھنا شروع کیا ہے۔ ان میں سے سب سے پہلا موضوع ہے "شادی"

میں نے کافی سال سے لکھنے لکھانے کو چھوڑا ہوا تھاکیونکہ میری شادی ہوگئی تھی۔ ۲۰۱۸ میں جب   کافی عرصہ بعد چلہ لگانے جماعت میں گیا اور مجھ سے علماء کے امیر صاحب نے پوچھا کہ ۲۰۱۳ میں سال لگانے کے بعد پانچ سال تک چلہ کیوں نہیں لگا یا تو ان کو بھی میں نے یہی عذر بتا یا تھا کہ جی میری شادی ہوگئی تھی۔آپ سوچیں گے کہ شادی بھی  کوئی وجہ ہے جس کو بندہ عذر کے طورپر بتا سکے ؟ تو یقینا جس نے اتنا لمبا عرصہ شادی ہونے کا انتظار کیا ہو تو اسے اس بات کا یقین آنے کےلئے بھی کچھ وقت درکار ہے کہ جی واقعی میری شادی ہوگئی ہے ۔

بچپن سے کچھ لوگ ڈاکٹر بننے کی فکر میں ہوتے ہیں کچھ انجینئر بننے کی فکر سوار کئے ہوتے ہیں جبکہ میری قبیل کے لوگ  بس دولہابننا چاہتے ہیں ۔ جن  کا خواب ، عمل ، اور مستقبل کے بارے میں جواب صرف "شادی "ہی ہوتا ہے۔

میں نے لکھنا اس لئے بھی چھوڑ دیا تھا کیوں کہ بندہ نے اپنے تئیں "اصلاح معاشرہ " اور "تحفظ شباب جواناں "کے  عنوان پر۲۰۱۱،۱۲میں  کچھ بلاگز لکھے جس میں نیٹ کی تباہ کاریوں اور جلد شادی کی ترغیب کے عنوان سے بہت کچھ لکھا ، پھر اسی موضوع پر جمعہ کی تقریریں  بھی جھاڑ دیں ۔ گویا کہ ہم نے اپنے زعم میں "تحریک ِ تزویج ِ کنواریاں " کے سربراہ کے فرائض انجام دینا شروع کردئیے تھے۔جس پر ہمارے محلے کے ایک ساتھی  بھائی محمداقبال مرحوم صاحب نے والد صاحب کو کہا کہ باقی سب باتیں چھوڑو مولوی کی ( یعنی راقم موصوف   کی) شادی جلدی کرادو۔ جس پر ہمیں اتنی شرمندگی محسوس ہوئی کہ اصلاح معاشرہ کا عنوان ہی چھوڑدیا۔ اور اپنی شادی نہ ہونے تک دوبارہ کسی دوسرے نوجوان کی شادی کروانے کا خیال بھی ترک کردیا۔

تحریک تزویج ِ کنواریاں  دراصل ہمارے ایک ساتھی محمدآصف بوزدار مرحوم  کی؁ ۲۰۰۱ ء  کی تحریک تھی ۔ بھائی آصف شادی شدہ ہوتے ہوئے درسِ نظامی کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے نوکوٹ میں مفتی شجاع الرحمان صاحب  کے مدرسہ انعام العلوم میں میرے ساتھ ہی داخل ہوئے تھے ۔انہوں نے باقی طلباء  کی شادیاں کروانے کوا پنا مشن بنا لیا، وہ طلباء کو بھی شادی کی ترغیب دیتے اور ان کے والدین کو بھی۔ اس وقت میری عمر ۱۵سال تھی ، انہوں نے میرے والد صاحب کو بھی میری شادی کروانے کی ترغیب دی۔ میرے والد صاحب سمجھے شاید میں نے ان کے ذریعے کہلوایا ہے ۔مگر شادی بھی قسمت کا کھیل ہے۔(میرے دوست بھائی آصف مرحوم کی تحریک سے متاثر ہوکر کیا حقیقتا کسی کی شادی ہوئی بھی  یا نہیں ، صحیح یاد نہیں لیکن میرے خیال میں ہمارے سینئر ساتھی بھائی عابد پٹھان صاحب جو کہ اب مدرسہ انعام العلوم میں ہی مدرس ہیں ساتھ ہی نوکوٹ کے الفوز اسکول کو بھی سنبھالتے ہیں، نے انہی کی ترغیب پر اسی زمانے میں شادی کرلی تھی۔

میری شادی کی فکر مجھ سمیت میری ساری فیملی کو تھی اور سب ہی میری شادی کروانا چاہتے تھے  ۲۰۰۶ سے تو میری شادی نے لڑھکنا شروع کردیا تھا جبکہ ۲۰۰۹ میں تو شادی گویا کہ پکی ہوگئی تھی اور دورہ سے فراغت پر ولیمہ اور درسِ نظامی کی تکمیل کے لئے ایک ہی  دعوت ہونے کا یقین تھا ۔ مگر پھر ہماری شادی الٹی لڑھکنے لگ گئی تو ہم نے کہاچلو جب تک شادی ہوگی تخصص میں ایک سال پڑھ لیتے ہیں ، پھر بھی شادی نہ ہونے پر ہم نے تخصص کا دوسرا سال بھی مکمل کرلیاا مگر بسا آرزو ہا کہ خاک شد  ۲۰۱۱ میں تخصص کی تکمیل تو ہوگئی مگر شادی پھر بھی  نہ ہوئی۔

تخصص کہ بعد مجھے ایک دن جامعہ سے مولانا اعجاز احمد صمدانی صاحب کا فون آیا کہ جاپان اور ترکی دوجگہ سے علماء مانگے گئے ہیں اگر تم چاہوتو تمہیں ان میں سے کسی جگہ بھجوادیں۔ میں نے فیصلے کے لئے ایک دن کی مہلت   طلب کی۔ چونکہ میں اکلوتا بیٹا ہوں اور والدہ درسِ نظامی کی جدائی پر بھی نا خوش تھیں، اب تو دور کے ملکوں کا نام سن کروالدہ نے اجازت دینے سے انکار کردیا اور ساتھ ہی کہا ہم تمہاری شادی کررہے ہیں ، اللہ تعالی ٰ یہیں روزی دے دیں گے۔شادی کا نام سن کر ہم اور بھی سُن ہوگئے اور استاد محترم سے عرض کی کہ والدہ اجازت نہیں دے رہیں۔دل میں لڈو اس بات پر پھوٹ رہے تھے کہ ہماری شادی ہونے لگی ہے مگرہماری شادی پھربڑے سالا سالی کی شادی کے ساتھ لٹک گئی ۔

یہاں تک کہ ۲۰۱۲ میں ذی الحجہ میں میرے سالا سالی کی شادی تو ہوگئی میری شادی پھر آگے  بڑھ گئی ہم نے دل شکستہ ہوکر جماعت میں چلہ لگانے کا ارادہ کیا جو سال میں بدل گیا ۔ بالآخرتبلیغی سال مکمل ہونے کے بعد  ۲۷ نومبر ۲۰۱۳ کو بندہ کی شادی ہوگئی ۔

 

 

Thursday, August 1, 2019

کیا یار بھروسہ ہے چراغ سحری کا​(حمایت الدین چراغ سحر)اناللہ وانا الیہ راجعون اللھم اغفر لہ وارحمہ و عافہ واعف عنہ و اکرم نزلہ ووسع مدخلہ و اغسلہ بماء الثلج و البرد و نقہ من الخطایا کما ینقی الثوب الابیض من الدنس


کیا یار بھروسہ ہے چراغ سحری کا
میرے عزیز بھائی حمایت الدین مرحوم نے لفظ چراغ سحری کو اپنا تخلص بنایا تھا ۔اور ان کا موجودہ فیس بک پروفائل نام بھی چراغ سحر تھا۔کیا یار بھروسہ ہے چراغ سحری کا ۔یہ مقطع میرتقی میر کی ایک غزل کا آخری فقرہ ہے جس کامطلع کچھ یوں  ہے۔ جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا۔  کل اُس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا۔ اس لفظ چراغ سحری کی تشریح وہ یوں کیا کرتے تھے کہ چراغ  سحری  استعارہ ہے بے ثباتی ، فانی اور ناپائیداری سے۔یعنی جو چراغ یا دیا تمام رات جلا ہے اس کا تیل ختم ہونے والا  ہے اور کسی بھی گھڑی اس چراغ کا بجھنا ممکن ہے۔آج ان کی وفات کی خبر سے جوتکلیف ہوئی ہے وہ تو ہے ہی ، مگر حسرت اس بات پر ہے کہ ہم نے ان کی قدر نہیں کی۔ ساتھ ہی اپنی موت کا بھی استحضار ہورہاہے ، کہ دوستوں کی موت عزرائیل کی طرف سے پیغام بھی ہوتا ہے۔ اللہ تعالی ٰ مجھے توبہ نصوحہ کی توفیق دیں، اور خاتمہ بالخیر اور کلمے والی موت سے نوازیں آمین۔
بھائی حمایت الدین بن غیاث الدین  کا استور ، گلگت سے تعلق تھا۔ عصری تعلیم ایف ایس سی یا بی ایس سی کرکے چارمہینے تبلیغی جماعت میں لگائے اور علم دین حاصل کرنے کے شوق سے کراچی منتقل ہوگئے۔ پہلے سال اولی اور ثانیہ  غالبا بنوری ٹاؤن کی کسی شاخ میں پڑھا تھا ۔ پھر جامعہ باب الرحمت گلشن حدید  میں؁2003-04 میں داخل ہوگئے ۔ یہیں سے ان کی رفاقت کی ابتداء ہوئی۔ جواب تک قائم تھی۔
میں مدرسے کے  ابتدائی سالوں میں بلڈ پریشر لو ہونا، ناک کی ہڈی بڑھی ہونے اور ٹانسلز کی وجہ سے کچھ تلخ طبیعت ہوگیا تھا جس کی وجہ سے میرے ساتھ تکرار(سبق کی دہرائی)کرنے والے ساتھی زیادہ عرصہ نہ رہ پاتے تھے ۔ یہ اس وقت میرے ساتھی بنے ۔ اور میری ہر طرح کی تلخی کو نا صرف برداشت کیا بلکہ مجھےحالات کا مقابلہ کرنا سکھایا۔ مچھلی اور انڈے ان کی پسندیدہ خوراک تھی۔ (اللہ تعالی ان کو جنت میں نعمتوں سے نوازیں) بدھ بازار جو کہ بدھ والے دن جامعہ باب الرحمت کے سامنے میدان میں لگتا تھا۔ اس میں ایک ہفتے مچھلی کھلانا ا ں کے ذمے ہوتا اور ایک دفعہ میرے ذمے۔ مچھلی کھاکے مجھے مدرسے بھیجتے اور کہتے میں ابھی آتا ہوں ۔ ایک دفعہ میں نے چپکے سے نگرانی کی تو ایک کلو اور مچھلی لے کر کھارہے تھے ۔ (اللہ تعالی ان کو جنت کی مچھلیا ں کھلائے۔ آمین۔)میرا گلاخراب ہوجاتا یہ مجھے گلگتی قہوہ بنا کےدیتے جس میں بہت ساری چیزوں کے ساتھ کالی مرچی بھی ہوتی تھی اور زبردستی مجھے پلاتے تھے۔   
رابعہ کے سال ؁2004-05میں شدید بیمار ہوا ۔ میرے جوڑ کام کرنا چھوڑ گئے اور میں ہلنے جلنے کے قابل بھی نہ رہا۔ جامعہ میں سب ہی ساتھیوں نے میرا بہت خیال کیا مگر سب سے آگے یہی بھا ئی حمایت الدین تھے۔ پھر مجھے گھر لایا گیا اور تقریبا چھ ماہ کا عرصہ میں بستر پر پڑا رہا۔ اس دوران یہ چھٹیوں میں گلگت گئے اور واپسی پر ایک پورا تھیلاجڑی بوٹیوں کا لے کرجس میں سے کوئی ہڈیوں کی دوائی تو کو ئی گلے کی تو کوئی سکون کی۔ مجھے جھڈو ملنے آئے۔اللہ تعالی ٰ انہیں بہترین جزائے خیر عطا فرمائے، اور جنت میں ان کو خدام حوروغلمان ملیں ،،اللہ تعالی ان کو عالی شان محلات میں جگہ عطا فرمائے آمین۔
ایک طرف خوش مزاج خندہ جبین انسان تھے ، وہیں باہمت  محنتی حوصلہ مند اور انتہائی بے خوف انسان تھے ۔ خود کسی حال میں بھی حوصلہ چھوڑتے نہیں تھے اور دوسروں کو بے حوصلہ ہونے نہیں دیتے تھے۔  جامعہ میں ایک دفعہ ایک ساتھی کو جنات کی شکایت ہوئی اور وہ ایسی دلدوز قسم کی چیخیں مارتا تھا کہ سارا مدرسہ اس سے ڈرتا تھا، مگر انہوں نے اس کے جنات کو بھی ڈرایا ہوا تھا۔ جب اس پر جنات کا مسئلہ ہوتا اور وہ اس حال میں ان کو دیکھ لیتا تو اس جگہ سے بھاگ جاتا۔  کراچی کے حالات شدید ترین بگڑے ہوں تب بھی کسی قسم کا خوف نہیں آنے دیتے ۔ موت کی حقیقت سے ہمیشہ سے واقف تھے۔اللہ تعالی ان کو آخرت کی پریشانیوں سے محفوظ فرمائے اور اپنی رضا کے پروانے سے سرفراز فرمائے۔آمین
اپنے تعلیمی سفر کے دوران اگر انہیں کسی بات پر افسوس ہوتا تو وہ صرف یہ تھا کہ میں اپنے گھر میں سب سے بڑا بھائی ہوں ۔ مجھے اپنے والد کا کندھا بننا چاہئیے تھا اپنے چھوٹے بھائیوں کے لئے کمانا چاہئیے تھا۔مگر مدارس کا چونکہ تعلیمی نظام کچھ اس طرح کا ہوتا ہے کہ بندہ کوئی پارٹ ٹائم جاب وغیرہ بھی نہیں کرسکتا اور چوبیس گھنٹے میں سے صرف چند گھنٹے آرام اور کھانے کے لئے ملتے ہیں ۔ وہ کوئی پارٹ ٹائم جاب بھی نہیں کرسکتےتھے۔ اپنے چھوٹے بھائیوں  سے بے حدمحبت رکھتے تھے۔ پھراسی دوران ان کے چھوٹے بھائی عصری تعلیم کے ساتھ پارٹ ٹائم جاب وغیرہ کرنے لگ گئے جس پر انہیں بہت فخر ہوتا تھا۔ کسی قوم لسانیت یا کسی اور ایسی وجہ سے کبھی کسی سے تعصب نہیں برتا۔ ہاں مگر گلگتی کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھتے اور بس میں بیٹھے بھی اگر کسی گلگتی سے کو ئی لڑتا نظر آجاتا تو اس کی مدد کےلئے گاڑی سے اترنے پر بھی آمادہ ہوجاتے۔ جو بات حق سمجھتے بغیر کسی لگی لپٹی کے سادہ سے انداز میں کہہ دیتے خواہ کسی کو اچھی لگی یا بری۔ اپنے مخالف کی بھی خوبی کو تسلیم کرتے اور اپنے دوست کی خامی کو بھی بتانے میں کسی ہچکچاہٹ میں مبتلا نہیں ہوتے۔ اسلام اور مسلمانوں کی بہتری کی سوچ ہر وقت رہتی۔ مشکل سے مشکل وقت میں بھی ساتھ دینے والے شخص تھے۔ اللہ تعالی ان کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین۔
باب الرحمت کے بعد دارالعلوم میں بھی ساتھی رہے ۔ دارالعلوم میں برمی کالونی کی برکت سے مچھلی سے خوب مستفید ہوئے۔ یہاں پر بھی ان کی سادہ طبیعت  نے انہیں ہر ایک کا دلعزیز بنائے رکھا۔ میرے لئے ان کی شفقت یہاں بھی میسر رہی ۔ میرے  لئے ان کی مصاحبت ہمیشہ ایک تحفظ کا احساس رہی ۔ اللہ تعالی انہیں جنت میں انبیاءصدیقین  شہداءاور صالحین کی رفاقت عطا فرمائیں۔ آمین۔
دورہ حدیث سے فراغت کے بعد انہوں نے مختلف پیشوں سے تعلق رکھا، ان کے بقول انہوں نے سبزی کی ریڑی لگانے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی، سپلائی کا کام بھی کیا ، مدرسے میں تدریس بھی کی، پشاور زرعی یونیورسٹی میں کنٹریکٹ پر لیکچرر بھی رہے۔ پھر آن لائن قرآن پڑھانا شروع کیا ۔ جو آخر تک جاری رہا ، اس کے علاوہ واسکٹ وغیرہ کے کپڑے کی ہول سیل کی دکان بھی لالوکھیت میں تھی۔  وہ کہا  کرتے تھے کہ اگر کو ئی آدمی نیک نیتی سے روزی کمانا چاہتا ہے تو اس کے لئے کہیں بھی تنگی نہیں ہے۔ بس انسان کسی کام میں عار نہ سمجھے۔
2009دورہ حدیث کے بعد میں نے تخصص فی الدعوہ میں مزید دو سال لگائے۔  اس کے بعد 2011اپنے علاقے میں آگیا ۔ ایم فل کا ہم دونوں کا ارادہ تھا۔ میں بھی کئی سال سے ارادہ کرتا آرہا تھا۔ اس سال 2019ہمارا اس بات پر اتفاق ہوگیا کہ ایم فل میں داخلہ لیں گے۔ میرا کراچی میں رہنے کا سیٹ اپ بنتے ہوئے کچھ تاخیر ہوگئی اور میں اس سال بھی اپلائی نہ کرسکا جب کہ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے ایم فل کا عز م کرلیا اور داخلے امتحان میں شریک ہوئے ۔ بڑی  بے قراری سے میریٹ لسٹ کا انتظار کیا اور ان کا نام میریٹ لسٹ میں آبھی گیا۔دوسری طرف سے  اجل کا بھی بلاوہ آگیا۔ اور ہارٹ اٹیک کی وجہ سے آج یکم اگست ۲۰۱۹ بروز جمعرات صبح غالبا نو بجے کے قریب  داعی اجل کو لبیک کہا۔ اناللہ وانا الیہ راجعون اللھم اغفر لہ وارحمہ و عافہ واعف عنہ و اکرم نزلہ ووسع مدخلہ و اغسلہ بماء الثلج و البرد و نقہ من الخطایا کما ینقی الثوب الابیض من الدنس
 میں اگر چندلفظوں میں ان کا تعارف کرواؤں تو وہ ایک دلیر ،باہمت ، محنتی ، وفادار، پرخلوص، سچااور محبت کرنے والا انسان تھا، جو دریادل اور مشکلات میں ساتھ ڈٹا رہنےوالا انسان تھا۔ اللہ تعالی ان کو جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے ، ان کی سیئات کو حسنات سے مبدل فرمائے ۔ آمین۔
وہ شادی شدہ تھے ، ان کے پسماندگان میں ان کی بیوی اور دوبچے بھی  شامل ہیں۔ ان کے دوبچے فوت بھی ہوئے ۔ اللہ تعالی انہیں ان کے لئے ذخیرہ آخرت بنائیں۔ اور ان کے موجود لخت جگروں کو ان کے لئے رفع درجات والے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالی ان کی نسلوں کی حفاظت فرمائے اور اسلام کی سربلندی کے لئے قبول فرمائے آمین۔
آخرمیں میرتقی میر کی مکمل غزل پیش ہے۔

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا
کل اُس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا
شرمندہ ترے رُخ سے ہے رخسار پری کا
چلتا نہیں کچھ آگے ترے کبک دری کا
آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت
اسباب لٹا یاں راہ میں ہر سفری کا
زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی
اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا
ہر زخم جگر داورمحشر سے ہمارا
انصاف طلب ہے تری بیداد گری کا
اپنی تو جہاں آنکھ لڑی پھر وہیں دیکھو
آئینہ کو لپکا ہےپریشان نظری کا
آمد موسم گل ہم کو تہ بال ہی گزرے
مقدور نہ دیکھا کبھو بے بال و پری کا
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا
ٹک میر جگر سوختہ کی جلد خبر لے
کیا یار بھروسہ ہے چراغ سحری کا
یہ میری کچھ یادداشتیں اپنے جگری دوست کو خراج تحسین کو پیش کرنے کے لئے محفوظ کررہاہوں ۔ اللہ تعالی اسے بہتر بدلہ عطا فرمائیے اوراپنی رحمت سے ہمیں جنت الفردوس میں اکٹھافرمائے آمین۔