الحمدللّٰہ ویسے تو سارا زمانۂ طالبعلمی، تمام مدارس جہاں تعلیم حاصل اور تمام اساتذہ ٔ کرام سے تلمذ ہی میرے لئے سعادت اور فخر کا باعث ہے، مگر جامعہ دارالعلوم کراچی میں گزرے شب وروز اور خاص کردورۂ حدیث کے اساتذہ کرام میری سعادتوں کی انتہا اور اللہ تعالیٰ کی بندہ پرکی جانے والی نعمتوں کی تکمیل تھیں۔ دورۂ حدیث شریف میں حضرت صدر جامعہ مفتی ٔ اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع صاحب عثمانی قدس اللّٰہ سرہ، حضرت نائب صدر صاحب مفتی محمد تقی صاحب عثمانی دام ظلہم، حضرت مفتی محمود اشرف صاحب عثمانی رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت مولانا عزیزالرحمان صاحب مدظلہم، حضرت مولاناافتخار احمداعظمی صاحب نوراللہ مرقدہم، حضرت مفتی عبدالرؤف سکھروی صاحب، حضرت مولانا عبداللہ برمی صاحب، حضرت مولانا اسحاق صاحب، حضرت مولانا راحت علی ہاشمی صاحب زید مجدہم و طال عمرہم اور حضرت مولانا رشید اشرف صاحب طاب ثراہم سے تلمذ بطور خاص سامانِ فخر وافتخارو عزت وشرف ہے۔
ان میں بھی خاص الخاص طور پر حضرت شیخ الاسلام صاحب کے اسباق میں حاضری اور حضرت سے اپنی الجھنوں کے تسلی بخش جوابات حاصل کرنا، خاص کرجب کہ حضرت کے رعب کی وجہ سے عمومی طور پر ساتھی طلباء سال میں بمشکل ایک دو سوال ہی حضرت سے پوچھ پاتے تھے بندہ الحمد للہ تقریبا ہر روز ہی حضرت سے فیضیاب ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ اپنے حصے کی عبارت زبانی سنانا، نیز دیگریادگاروں میں سے حضرت کے امرکردہ ادعیہ اور احادیث کلاس میں سنانا مجھے ساری زندگی کے لئے ایک ایسا اعتماد دے گیاکہ اب کسی اور صاحب کمال ، ذوالعلم والجلال کارعب طاری نہیں ہوتا۔
ان یادگار ساعتوں میں سے دو راتوں کی میری محنت کی گواہی دیتی دو تحریریں جن کے رسوم وطلائل اب کسی عرب شاعر کی محبوبہ کی یادگاروں کی طرح مٹنے لگ گئے تھے اور انہیں میرے چھوٹے شرارتی بچونگڑوں کے ہاتھوں سےمنہدم ہونے کا بھی خطرہ اجاگر ہوچکاتھا۔ محفوظ کرنے کے لئے ان کی تصویر کو اپ لوڈکررہاہوں اور ان کی تحریر کو کمپوز کررہا ہوں تاکہ ان سے ہمیشہ حوصلہ حاصل کرسکوں۔ اگرچہ ان دو راتوں کے بعد اب تک کئی راتیں تحقیق کرتے ہوئے جاگتے گزاری ہیں مگر ان راتوں پر جوخوشی اور فخر ہے وہ ساری زندگی رہے گا۔ ان شاء اللہ
منگل ۲۴ ذوالحجہ ۱۴۲۹ ھجری
بروزمنگل ۲۴ ذوالحجہ ۱۴۲۹ ھجری کو حضرت شیخ الاسلام صاحب مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ علینا نے حدیث نمبر ۳۷۸ کے ذیل میں ارشاد فرمایا کہ یہاں پر حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کا تخطیہ فرمایا ہے کہ حافظ صاحب نے جحوش ِساق اور ایلاء کے واقعے کو ایک قرار دیا ہے جبکہ درحقیقت میں یہ دونوں واقعات الگ الگ ہیں۔
میں سبق کے اہم مقامات کو فتح الباری سے دیکھا کرتا تھا۔ اس رات بھی میں نے حافظ رحمۃ اللہ علیہ کے ان دونوں واقعات کوایک کہنے کی جگہ تلاش کرنا شروع کی۔ رات کا بڑا حصہ جاگنے کے بعد بھی میں حافظ صاحب کے ان دونوں واقعات کو ایک کہنے کی جگہ تلاش نہ کرپایا۔ میں نے اپنی جستجو استاد محترم کے سامنے پیش کرنے کی ٹھانی اور ان تمام گیارہ مقامات کا حوالہ لکھ کر بدھ ۲۵ ذو الحجہ ۱۴۲۹ ھجری کو حضرت کے سامنے کتاب میں یہ رقعہ رکھ دیا۔
حاصلِ مطالعہ پر مشتمل سوالیہ خط
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جناب استاد محترم(ادام اللّٰہ ظلہ علینا)
السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
عرض ہیکہ کل بروز منگل ۲۴ ذی الحجہ کو ہم نے بخاری شریف کی حدیث نمبر ۳۷۸ کے ذیل میں ہم نے پڑھاکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللّٰہ سے یہاں تسامح ہوا ہے اور انہوں نے دو واقعوں کو ایک ذکر کیا ہے۔ میں نے اس سلسلہ میں فتح الباری کو دیکھا تو تومعلوم ہوا کہ امام بخاری رحمہ اللّٰہ علیہ نے اس حدیث کے اطراف کو ۱۱ جگہ ذکر ہے جنکو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اِن اِن جگہوں پر ذکر کیا ہے۔
نمبر۱۔ حدیث نمبر۳۷۸ ،فتح الباری ص۶۴۲۔ج ۱
نمبر۲۔ حدیث نمبر۶۸۹ ،فتح الباری ص۳۳۱۔ج ۲
نمبر۳۔ حدیث نمبر۷۳۲ ،فتح الباری ص۲۷۵۔ج ۲
نمبر۴۔ حدیث نمبر۷۳۳ ،فتح الباری ص۳۷۵۔ج ۲
نمبر۵۔ حدیث نمبر۸۰۵ ،فتح الباری ص۳۷۰۔ج ۲
نمبر۶۔ حدیث نمبر۱۱۱۴ ،فتح الباری ص۷۴۳۔ج ۲
نمبر۷۔ حدیث نمبر۱۹۱۱ ،فتح الباری ص۱۵۰۔ج ۴
نمبر۸۔حدیث نمبر۲۴۶۹ ،فتح الباری ص۱۴۶۔ج ۵
نمبر۹۔ حدیث نمبر۵۲۰۱ ،فتح الباری ص۳۷۴۔ج ۹
نمبر۱۰۔ حدیث نمبر۵۲۸۹ ،فتح الباری ص۵۳۱۔ج ۹
نمبر۱۱۔ حدیث نمبر۶۶۸۴ ،فتح الباری ص۶۹۶۔ج ۱۱
انمیں سے پہلی سات جگہوں پر جحوش ساق والے واقعے کا تذکرہ ہے ایلاء کا بالکل تذکرہ نہیں۔
جبکہ آٹھویں جگہ میں دونوں واقعات کا کچھ کچھ تذکرہ ہے۔ مگر ایسا کوئی لفظ نہیں جس سے دونوں قصوں کا ایک ہونا معلوم ہو۔
اسکے بعد نمبر ۹ اور نمبر۱۰ میں ایلاء کاذکر ہے جحوش ِ ساق کا تذکرہ نہیں ، سوائے ایک عبارت کے جوابھی لکھتا ہوں۔
جحوش کے تذکرہ میں حافظ نے حدیث نمبر ۶۸۹ کے ذیل میں ص ۲۲۶ پر ذکر فرمایا ہے کہ یہ پانچویں ہجری کا واقعہ ہے۔
حافظ رحمۃ اللہ علیہ کی کسی عبار ت سے میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ حافظ صاحب دونوں واقعات کے ایک ہونے کے قائل ہیں۔
وہ عبارت جس سے کچھ شبہ لگتا ہے وہ حدیث نمبر ۵۲۸۹ کے ذیل میں حافظ رحمۃ اللہ علیہ کی یہ عبارت ہے۔
«فتح الباري لابن حجر» (9/ 427): «وَقَدْ تَقَدَّمَ بَيَانُ قَوْلِهِ آلَى مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا وَشَرْحُهُ فِي أَوَاخِرِ الْكَلَامِ عَلَى شَرْحِ حَدِيثِ عُمَرَ فِي الْمُتَظَاهِرَتَيْنِ فِي النِّكَاحِ وَوَقَعَ فِي حَدِيثِ أَنَسٍ هَذَا فِي أَوَائِلِ الصَّلَاةِ زِيَادَةُ قِصَّةٍ مَشْهُورَةٍ سُقُوطُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْفَرَسِ وَصَلَاتُهُ بِأَصْحَابِهِ جَالِسًا»۔
لیکن بظاہر اس میں بھی کوئی تصریح نہیں ہے۔ البتہ اگر یہ کہاجائے تو ہوسکتا ہے کہ حافظ رحمۃ اللہ علیہ نے چونکہ دونوں کے الگ الگ واقعہ ہونے کی صراحت نہیں فرمائی اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حافظ دونوں واقعوں کوایک سمجھتے تھے۔
اس تسامح کو واضح فرماکر مشکور فرمادیں، کہ شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کس طرح یہ بات حافظ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب فرماتے ہیں۔
نواز ش ہوگی ۔ جزاکم اللہ خیرا۔
سائل نوراکرم

.jpeg)


No comments:
Post a Comment