Thursday, April 3, 2025

دو راتوں کی یادگارشب بیداری، فتح الباری کا مطالعہ اور ایک دوست کا رقعہ

 الحمدللّٰہ ویسے تو سارا زمانۂ طالبعلمی، تمام مدارس جہاں تعلیم حاصل اور تمام اساتذہ ٔ کرام سے تلمذ ہی میرے لئے سعادت  اور فخر کا باعث ہے، مگر جامعہ دارالعلوم کراچی میں گزرے شب وروز اور خاص کردورۂ حدیث کے اساتذہ کرام میری سعادتوں کی انتہا اور اللہ تعالیٰ کی بندہ پرکی جانے والی نعمتوں کی تکمیل تھیں۔ دورۂ حدیث شریف میں حضرت صدر جامعہ مفتی ٔ اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع صاحب عثمانی قدس اللّٰہ سرہ، حضرت نائب صدر صاحب مفتی محمد تقی صاحب عثمانی  دام ظلہم، حضرت مفتی محمود اشرف صاحب عثمانی رحمۃ اللہ علیہ  ، حضرت مولانا عزیزالرحمان صاحب مدظلہم، حضرت مولاناافتخار احمداعظمی صاحب نوراللہ مرقدہم، حضرت مفتی عبدالرؤف سکھروی صاحب، حضرت مولانا عبداللہ  برمی صاحب، حضرت مولانا اسحاق صاحب، حضرت مولانا راحت علی ہاشمی صاحب  زید مجدہم و طال عمرہم اور حضرت مولانا رشید اشرف صاحب طاب ثراہم سے تلمذ بطور خاص سامانِ فخر وافتخارو عزت وشرف ہے۔

ان میں بھی خاص الخاص طور پر حضرت شیخ الاسلام صاحب کے اسباق میں حاضری اور حضرت سے اپنی الجھنوں کے تسلی بخش جوابات حاصل کرنا، خاص کرجب کہ حضرت کے رعب کی وجہ سے عمومی طور پر ساتھی طلباء سال میں بمشکل ایک دو سوال ہی حضرت سے پوچھ پاتے تھے بندہ الحمد للہ تقریبا ہر روز ہی حضرت سے فیضیاب ہوتا تھا۔  اس کے علاوہ اپنے حصے کی عبارت زبانی سنانا، نیز دیگریادگاروں میں سے حضرت کے امرکردہ ادعیہ اور احادیث کلاس میں سنانا مجھے ساری زندگی کے لئے ایک ایسا اعتماد دے گیاکہ اب کسی اور صاحب کمال ، ذوالعلم والجلال کارعب طاری نہیں ہوتا۔ 

ان یادگار ساعتوں میں سے دو راتوں کی میری محنت کی گواہی دیتی دو تحریریں جن کے رسوم وطلائل اب  کسی عرب شاعر کی محبوبہ کی یادگاروں کی طرح مٹنے لگ گئے تھے اور انہیں میرے چھوٹے شرارتی بچونگڑوں  کے ہاتھوں سےمنہدم ہونے کا بھی خطرہ اجاگر ہوچکاتھا۔  محفوظ کرنے کے لئے ان کی تصویر کو اپ لوڈکررہاہوں اور ان کی تحریر کو کمپوز کررہا ہوں تاکہ ان سے  ہمیشہ حوصلہ حاصل کرسکوں۔ اگرچہ ان دو راتوں کے بعد  اب تک کئی راتیں تحقیق کرتے ہوئے جاگتے گزاری ہیں مگر ان راتوں پر جوخوشی اور فخر ہے وہ ساری زندگی رہے گا۔ ان شاء اللہ

منگل ۲۴ ذوالحجہ  ۱۴۲۹ ھجری

بروزمنگل ۲۴ ذوالحجہ  ۱۴۲۹ ھجری کو حضرت شیخ الاسلام صاحب مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ علینا نے حدیث نمبر ۳۷۸ کے ذیل میں ارشاد فرمایا کہ یہاں پر حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے حافظ ابن حجر  رحمۃ اللہ علیہ کا تخطیہ فرمایا ہے کہ حافظ صاحب نے جحوش ِساق اور ایلاء کے واقعے کو ایک قرار دیا ہے جبکہ درحقیقت میں  یہ دونوں واقعات الگ الگ ہیں۔ 

میں سبق کے اہم مقامات کو فتح الباری سے دیکھا کرتا تھا۔ اس رات بھی میں نے حافظ رحمۃ اللہ علیہ کے ان دونوں واقعات کوایک کہنے کی جگہ تلاش کرنا شروع کی۔ رات کا بڑا حصہ جاگنے کے بعد بھی میں حافظ صاحب کے ان دونوں واقعات کو ایک کہنے کی جگہ تلاش نہ کرپایا۔ میں نے اپنی جستجو استاد محترم کے سامنے پیش کرنے کی ٹھانی اور ان تمام گیارہ مقامات کا حوالہ لکھ کر بدھ ۲۵ ذو الحجہ ۱۴۲۹ ھجری کو حضرت کے سامنے کتاب میں  یہ رقعہ رکھ دیا۔ 

حاصلِ مطالعہ پر مشتمل سوالیہ خط 

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

جناب استاد محترم(ادام اللّٰہ ظلہ علینا)

السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ

  عرض ہیکہ کل بروز منگل ۲۴ ذی الحجہ کو ہم نے بخاری شریف کی حدیث نمبر ۳۷۸ کے ذیل میں ہم نے پڑھاکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللّٰہ   سے یہاں تسامح ہوا ہے اور انہوں نے دو واقعوں کو ایک ذکر کیا ہے۔ میں نے اس سلسلہ میں فتح الباری کو دیکھا تو تومعلوم ہوا کہ امام بخاری رحمہ اللّٰہ علیہ نے اس حدیث کے اطراف کو ۱۱ جگہ ذکر ہے جنکو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اِن اِن جگہوں پر ذکر کیا ہے۔ 

نمبر۱۔ حدیث نمبر۳۷۸ ،فتح الباری ص۶۴۲۔ج ۱

نمبر۲۔ حدیث نمبر۶۸۹ ،فتح الباری ص۳۳۱۔ج ۲

نمبر۳۔ حدیث نمبر۷۳۲ ،فتح الباری ص۲۷۵۔ج ۲

نمبر۴۔ حدیث نمبر۷۳۳ ،فتح الباری ص۳۷۵۔ج ۲

نمبر۵۔ حدیث نمبر۸۰۵ ،فتح الباری ص۳۷۰۔ج ۲

نمبر۶۔ حدیث نمبر۱۱۱۴ ،فتح الباری ص۷۴۳۔ج ۲

نمبر۷۔  حدیث نمبر۱۹۱۱ ،فتح الباری ص۱۵۰۔ج ۴

نمبر۸۔حدیث نمبر۲۴۶۹ ،فتح الباری ص۱۴۶۔ج ۵

نمبر۹۔ حدیث نمبر۵۲۰۱ ،فتح الباری ص۳۷۴۔ج ۹

نمبر۱۰۔ حدیث نمبر۵۲۸۹ ،فتح الباری ص۵۳۱۔ج ۹

نمبر۱۱۔ حدیث نمبر۶۶۸۴ ،فتح الباری ص۶۹۶۔ج ۱۱

انمیں سے پہلی سات جگہوں پر جحوش ساق والے واقعے کا تذکرہ ہے ایلاء کا بالکل تذکرہ نہیں۔

جبکہ آٹھویں جگہ میں دونوں واقعات کا کچھ کچھ تذکرہ ہے۔ مگر ایسا کوئی لفظ نہیں جس سے دونوں قصوں کا ایک ہونا معلوم ہو۔ 

اسکے بعد نمبر ۹ اور نمبر۱۰ میں ایلاء کاذکر ہے جحوش ِ ساق کا تذکرہ نہیں ، سوائے ایک عبارت کے جوابھی لکھتا ہوں۔

جحوش  کے تذکرہ میں حافظ نے حدیث نمبر ۶۸۹ کے ذیل میں ص ۲۲۶ پر ذکر فرمایا ہے کہ یہ پانچویں ہجری کا واقعہ ہے۔

حافظ رحمۃ اللہ علیہ کی کسی عبار ت سے میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ حافظ صاحب دونوں واقعات کے ایک ہونے کے قائل ہیں۔

وہ عبارت جس سے کچھ شبہ لگتا ہے وہ حدیث نمبر ۵۲۸۹  کے ذیل میں حافظ رحمۃ اللہ علیہ کی یہ عبارت ہے۔

  «فتح الباري لابن حجر» (9/ 427): «وَقَدْ تَقَدَّمَ بَيَانُ قَوْلِهِ آلَى مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا وَشَرْحُهُ فِي أَوَاخِرِ الْكَلَامِ عَلَى شَرْحِ حَدِيثِ عُمَرَ فِي الْمُتَظَاهِرَتَيْنِ فِي النِّكَاحِ وَوَقَعَ فِي حَدِيثِ أَنَسٍ هَذَا فِي أَوَائِلِ الصَّلَاةِ زِيَادَةُ قِصَّةٍ مَشْهُورَةٍ سُقُوطُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْفَرَسِ وَصَلَاتُهُ بِأَصْحَابِهِ جَالِسًا»۔

لیکن بظاہر اس میں بھی کوئی تصریح نہیں ہے۔ البتہ اگر یہ کہاجائے تو ہوسکتا ہے کہ حافظ رحمۃ اللہ علیہ نے چونکہ دونوں کے الگ الگ واقعہ ہونے کی صراحت نہیں فرمائی اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حافظ دونوں واقعوں کوایک سمجھتے تھے۔

اس تسامح کو واضح فرماکر مشکور فرمادیں، کہ شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کس طرح یہ بات حافظ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب فرماتے ہیں۔ 

نواز ش ہوگی ۔ جزاکم اللہ خیرا۔

سائل نوراکرم








بدھ ۲۵ ذو الحجہ ۱۴۲۹ ھجری

حضرت استاد محترم نے اس پرچے کو پڑھنے کے بعد تلاش کرنے کی کوشش کرنے پر حوصلہ افزائی فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ حضرت شاہ صاحب نے اگر یہ ارشاد فرمایا ہے کہ حافظ رحمۃ اللہ علیہ نے دونوں واقعات کو ایک قرار دیا ہے تو یقینا ً یہ بات کہیں نہ کہیں حافظ صاحب نے ضرور کہی ہوگی۔ میں  کل کو بتاؤں گا۔
میں نے سوچا کہ حضرت استاد صاحب  تو ضرور تلاش فرماہی لیں گے میں بھی دوبارہ کوشش کروں۔ بدھ کی رات میں نے اس واقعے کے بیان پر تمام احادیث کی لسٹ بنا کرتلاش شروع کی تو بالآخر حافظ صاحب کا دونوں واقعات کو ایک کہنا مجھے مل گیا جسے میں نے ذیل کی چٹ میں تحریر کردیا۔

اگلے دن کی چٹ کی عبارت

حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی بات کے  مطابق جب میں نے حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث انس رضی اللہ عنہ سے ملتے جلتے مضامین والی روایات پر حافظ رحمہ اللہ  کاکلام دیکھا تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث نمبر ۵۲۰۲  کے ذیل میں وہ عبارت ملی جس میں حافظ رحمۃ اللہ علیہ نے اس واقعہ ایلاء کے وقت حضور ﷺ کے پاؤں مبارک کے زخمی ہونے کا ذکر کیا ہےوہ عبارت یہ ہے
«فتح الباري لابن حجر» (9/ 301): «لَكِنِ اتَّفَقَ أَنَّهُ فِي تِلْكَ الْحَالَةِ ‌انْفَكَّتْ ‌رِجْلُهُ ‌كَمَا ‌فِي ‌حَدِيثِ ‌أَنَسٍ الْمُتَقَدِّمِ فِي أَوَائِلِ الصِّيَامِ»
اس سے حافظ کے دونوں واقعات کے ایک ہونے کے قائل ہونے کا علم ہوتا ہے۔
طالبعلم : نوراکرم 


جمعرات ۲۶ ذوالحجہ ۱۴۲۹ ھجری  کا درس

 میں نے درج بالا چٹ  حضرت کی کتاب میں رکھ دی۔ حضرت  کلاس میں تشریف لائے تو حمد وثنا  کے بعد حضرت نے میرے سوال کی تحسین فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ واقعی حافظ صاحب نے یہ بات حدیث الباب کے ذیل میں ارشاد نہیں فرمائی مگر ایک دوسری جگہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے ذیل میں  یہ بات ارشاد فرمائی ہے ۔ پھر مجھے مخاطب کرکے ارشاد فرمایا کہ سمجھ میں آگئی بات۔ تو میں نے عرض کیا جی استاد محترم مجھے بھی کل یہ بات مل گئی تھی اور میں نے یہ چٹ آپ کی کتاب میں رکھی ہے۔ حضرت استاد صاحب نے یہ چٹ دیکھ کر بندہ کی بہت زیادہ حوصلہ افزائی فرمائی۔ جس نے مجھے سرشار 
کردیا۔ 

میرے سوالات پر ایک ہمجماعت کا غصے   سے بھرا خط

میں چونکہ پہلی صف میں دس نمبر سیٹ پر بالکل حضرت کے سامنے بیٹھتا تھا۔ حضرت ہی کے کسی سبق کے دوران پیچھے سے ایک چٹ میرے کسی دوست نے مجھے بھیجی جو میں نے آج تک سنبھال کررکھی ہے۔ جس میں بظاہر تو وہ مجھ سےطنز بھرے انداز میں  خفا ہورہے ہیں اور میرے سوالات پر ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں۔ مگر اس پرچی نے مجھے زندگی کے ہر موقعہ پر بہت حوصلہ دیا۔  حتیٰ کہ جب میں کسی کام کے دوران تھک یا اکتا جاؤں  تو میں یہ چٹ پڑھتا ہوں "کوفی نوراکرم" کا لقب دیکھتا ہوں توبہت محظوظ ہوتا ہوں اور یہ تحریر مجھے دوبارہ تازہ دم کردیتی ہے۔ مجھے آج تک اس دوست کا علم نہیں ہے ، نہ ہی مجھے ان سے کوئی ناراضگی ہے۔نہ ہی میں جاننا چاہتا ہوں کہ  وہ کون تھا۔ اس کے برعکس میں اس دوست کا بے حد شکر گزار ہوں۔ آج ۱۶ سال گزرنے کے بعد بھی میں نہیں چاہتا کہ وہ پشیمانی کااظہار کریں ۔ میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ میں  ان کا تہہ دل سے مشکور تھا، مشکور ہوں  اور مشکور  رہوں گا۔میں نے ہمیشہ ان تحریروں سے حوصلہ حاصل کیاہے۔  اس پرچی کی عبارت درج ِ ذیل ہے:۔
 😂علامہ نوراکرم صاحب
ہم تمام ساتھیوں کو معلوم ہے کہ آپ دور حاضر کے مفکر مدبر ہیں 😅لیکن ہم تمام ساتھی آپ سے مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ آپ اپنی فکروتدبر کو اپنی حدتک محدود رکھیں😄 چونکہ ہم نے تسلیم کرلیا ہے کہ آپ زمانے  کے شیخ الاسلام ہے اسلئے آپ کو مزید  تشہیر کی چنداں ضرورت نہیں😡۔ چنانچہ اگر آپکو پھر بھی عادت کی مجبوری کی بنا پر سوال و اعتراض کرنا ہے تو اللہ کے واسطے آپ متعلقہ استاذ سے فرصت میں بحث ومباحثہ و مناظرہ کریں ہمیں آپکے مناظرہ کا نظارہ کی چنداں ضرورت نہیں😈 ۔ چونکہ آپ کو معلوم ہے کہ بڑی مشکل سے رات دن ایک کرکے ہم اختتام کو پہنچ رہے ہیں لیکن آپ ہر آئے دن اس محنت کو ناکام بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ 👳بہرحال اب اپنا سوال واعتراض بندکریں۔ 

کوفی نوراکرم کو ملے

😁😂😄😅😀😝